27 ستمبر کے مارچ کا معاملہ، پی ٹی آئی کے 100 سے زائد سرگرم کارکنان نظر بند

441971 5106504 updates 1

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مہم اور احتجاجی مارچ کے اعلان کے بعد انتظامیہ اور پولیس متحرک ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کے اس احتجاج کو روکنے اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے راولپنڈی ڈویژن بھر سے تحریک انصاف کے 100 سے زائد سرگرم رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے کر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کی خصوصی سفارش پر عمل میں لائی گئی ہے، جس کے بعد نقصِ امن کے قانون 3 ایم پی او کے تحت ان تمام افراد کو 30 روز کے لیے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی ڈویژن کے مختلف اضلاع سے مجموعی طور پر 106 پی ٹی آئی کارکنان کو نظر بند کیا گیا ہے۔ کریک ڈاؤن کے دوران سب سے زیادہ گرفتاریاں اٹک سے عمل میں آئیں جہاں 35 کارکنان کو حراست میں لیا گیا، جبکہ راولپنڈی سے 31، چکوال سے 23، جہلم سے 13 اور واہ کینٹ سے 4 سرگرم کارکنان کو نظر بند کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے اور وفاقی دارالحکومت کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اپنے شیڈول کے مطابق 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف بڑھنے کے فیصلے پر قائم ہے۔ اس حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کے وزیر اطلاعات شفیع جان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے قافلے انتہائی پرامن طریقے سے خیبرپختونخوا سے وفاقی دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ انہوں نے پارٹی کی حکمت عملی واضح کرتے ہوئے کہا کہ دیگر صوبوں اور شہروں کے عوام اسلام آباد آنے کے بجائے اپنے اپنے علاقوں اور شہروں کو بند کریں گے، جبکہ صرف کے پی کی سرحد سے متصل علاقوں کے لوگ ہی اسلام آباد کے مارچ میں شامل ہوں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس موجودہ نظام کو گرانے کے لیے آ رہے ہیں اور پوری طاقت کے ساتھ احتجاجی تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔