انتظامی تقسیم یا نیا رخ؟ سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں سوشل میڈیا پر نئی مہم کا آغاز
کراچی: پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کی بحث نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں سندھ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات اور ٹرینڈز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوامی سطح پر اس موضوع کو لے کر سنجیدہ مکالمے کا آغاز ہو چکا ہے۔ [1, 2, 3]
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے پیغامات میں شہریوں کا مؤقف ہے کہ عوامی مسائل کے فوری حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے نئے انتظامی صوبے یا یونٹس بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ آبادی میں بے پناہ اضافے اور بڑھتے ہوئے معاشی و شہری مسائل کے حل کے لیے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی اس مہم میں نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے اور اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ملک کے سیاسی حلقوں اور خاص طور پر سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر شدید بحث دیکھی گئی ہے۔ جہاں ایک طرف سیاسی جماعتوں اور قوم پرست رہنماؤں کی جانب سے صوبے کی موجودہ جغرافیائی حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے، وہیں عوامی سطح پر اور ڈیجیٹل میڈیا پر انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بنانے کی مانگ میں مسلسل تیزی آ رہی ہے۔ معاشی ماہرین اور شہریوں کے مطابق، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہی ملک اور صوبے کی حقیقی ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
