کراچی: پولیس حراست میں نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ، ورثاء کا احتجاج

کراچی: صوبائی دارالحکومت کے علاقے ملیر لاسی گوٹھ میں پولیس چھاپے کے دوران 17 سالہ طالب علم کی پراسرار موت نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔
علاقہ مکینوں اور لواحقین نے ملیر سٹی تھانے اور کراچی پریس کلب کے باہر لاش رکھ کر دھرنا دے دیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ مقتول کے ورثا نے پولیس پر حراست کے دوران بدترین تشدد اور کرنٹ لگانے کا الزام عائد کیا ہے
تفصیلات کے مطابق چند روز قبل کراچی کے علاقے لاسی گوٹھ میں ملیر سٹی پولیس کی کارروائی کے دوران 17 سالہ طالب علم ارشاد کی ہلاکت پر پولیس اور اہلخانہ کے متضاد دعوے سامنے آئے تھے۔ مقتول کے اہلخانہ نے پولیس پر حراست میں بجلی کا کرنٹ لگا کر قتل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے لاش کے ہمراہ جناح اسپتال اور پریس کلب کے باہر شدید احتجاج کیا تھا۔
دوسری جانب، ایس ایچ او ملیر سٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس بدنام منشیات فروش ارشد کو گرفتار کرنے گئی تھی، جس کے دوران پڑوسی نوجوان ارشاد نے ڈر کر بھاگنے کی کوشش کی اور چھتوں سے کودتے ہوئے بجلی کے تاروں سے الجھ کر کرنٹ لگنے کے باعث ہلاک ہو گیا تھا۔
