ریونیو ڈیپاڑٹمنٹ میں جعلی فائلیں اور سائن کر کے زمینوں پر قبضوں کا انکشاف
ریونیو افسران جعلی فائلیں اور سائن کے ذریعے سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں پر قبصے کرنے لگے ۔تفصیلات کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن نے کراچی سینڑل کے علاقے میں دو ایکٹر سرکاری زمین جو کہ کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی ملکیت تھی جعلی کاغذات کے ذریعے یوسف نامی بلڈر کے نام کر دی گئی ۔ مبینہ طور پر اس میں سیکشن افسر رحمان شورو نے جعلی فائل بنا کر جعلی سائن کے ذریعے چالان جاری کیا اور اربوں کی زمین بلڈر یوسف کو بیچ دی گئی ۔ حماد چاچڑ جو زمینوں پر قبضے اور جعلی کاغذات کے ذریعے سرکاری زمینوں بھیچنے کے حوالے سے روپوش ہے۔ اس جرم میں رحمان شورو کے ساتھ ایس بھی سی اے اور کے ڈی اے کے افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ۔

اس مقدمے میں مرتضیٰ رضوی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماسٹر پلان ،نوید علی شیخ مینجر پیپلز سروس ایسٹ ،قدیر احمد کنڈیارو ڈیٹا پروسیسنگ افسر ،یوسف خان بلڈر ،شکیل احمد اٹارنی شامل ہیں جبکہ اس تمام کارروائی میں ملوث سیکشن افسر رحمان شورو لینڈ ڈیپارٹمنٹ اور سیکشن افسر محمد شکیل لینڈ ڈیپارٹمنٹ کو بھی شامل تفتیش کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔یاد رہے اس سرکاری زمین پر بلڈر نے بلند وبالا عمارت کا نقشہ کے ڈی اے اور ایس بی سی اے کی ملی بھگت سے پاس کرالیا تھا ۔ذرائع کے مطابق رحمان شورو نے متعدد زمینوں کی جعلی فائلیں بنا کر سندھ حکومت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے جس کی تفصیلات چند روز میں زیرو سے ڈیجیٹل پر دیکھ سکیں گے۔

