مسلم لیگ (ن) کو بڑا دھچکا: نواز شریف کے دیرینہ ساتھی اور رکنِ قومی اسمبلی محمود بشیر ورک انتقال کر گئے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بانی میاں نواز شریف کے انتہائی مخلص و دیرینہ ساتھی اور موجودہ رکنِ قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کینسر کے عارضے میں مبتلا رہنے کے بعد لاہور کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی وفات پر ملکی سیاسی حلقوں بالخصوص مسلم لیگ (ن) میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے [1.2.3، 1.2.6]۔
حلقہ این اے-77 (گوجرانوالہ) سے منتخب ہونے والے مرحوم محمود بشیر ورک کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے گکھڑ میں ادا کر دی گئی، جس کی امامت معروف عالمِ دین علامہ ثاقب رضا مصطفائی نے کی [1.2.4، 1.2.6]۔ جنازے میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، سی پی او اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں شہریوں نے شرکت کی، جس کے بعد انہیں گکھڑ کے مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا.
محمود بشیر ورک کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف طویل عرصے سے نبردآزما تھے۔ وہ اپنے سیاسی کیریئر کے دوران ریکارڈ 5 مرتبہ رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور وفاقی وزیر کے منصب پر بھی فائز رہے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک نامور وکیل تھے اور انہوں نے اپنی وکالت اور 1970ء سے شروع ہونے والے طویل سیاسی سفر میں ہمیشہ صاف ستھری اور ایماندارانہ زندگی گزاری۔
نمازِ جنازہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ محمود بشیر ورک نے قیامِ پاکستان کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ان کی رحلت سے گوجرانوالہ اور ملکی سیاست میں ایک ایسا بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے جو کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بزرگ لیگی رہنما کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمود بشیر ورک ایک مخلص، باصلاحیت اور بے حد فعال پارلیمنٹیرین تھے۔ ان کی وفات سے ملکی پارلیمنٹ ایک مایہ ناز اور اصولی رہنما سے محروم ہو گئی ہے اور ان کی سیاسی و سماجی خدمات کو ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا
