میر رضا کیس: ‘خودکشی نہ لکھنے پر دھمکیاں ملیں’، ڈاکٹر سمعیہ کے سنسنی خیز انکشافات، جوڈیشل کمیشن شدید برہم

WhatsApp Image 2026 09 14 at 6.01.32 PM

میر رضا مبینہ خودکشی کیس میں ایک نیا اور انتہائی چونکا دینے والا موڑ سامنے آیا ہے جہاں پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر سمعیہ نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے انہیں رپورٹ میں یہ لکھنے سے روکا کہ ‘یہ واقعہ خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتا’ اور بات نہ ماننے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہوکر ڈاکٹر سمعیہ نے روتے ہوئے بتایا کہ اس کیس کی وجہ سے ان کا کیریئر اور نوکری داؤ پر لگ گئے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر ان کے گھر کا پتہ اور شوہر کا نام وائرل کر کے ان پر زمین پر قبضے کا جھوٹا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ مسلسل دو دن تک نامعلوم افراد نے ان کا پیچھا کیا، جس پر انہوں نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) کو باقاعدہ شکایت درج کروا دی ہے۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر سمعیہ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی معروضات پیش کرنے کے لیے ڈی آئی جی عامر فاروقی اور سمیع اللہ سومرو سے رابطہ کیا لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی، بلکہ بعد میں ڈی آئی جی نے دباؤ ڈالتے ہوئے پیشکش کی کہ اگر وہ رپورٹ تبدیل کر دیں تو ان پر دورانِ تفتیش ہلکا ہاتھ رکھا جائے گا۔ اس موقع پر جسٹس عمر سیال نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر سمعیہ کو پولیس یا رینجرز کی سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی، تاہم انہوں نے دونوں فورسز کی سیکیورٹی لینے سے معذرت کر لی۔ ڈاکٹر سمعیہ نے یہ بھی بتایا کہ سی آئی اے کا ایک انسپکٹر محمد علی ان سے غیر قانونی طور پر کیس کا ریکارڈ مانگ رہا تھا۔

جسٹس عمر سیال نے اس صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون ڈاکٹر کو دھمکیاں دینے اور ہراساں کرنے کی یہ صورتحال کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں ہے۔ کمیشن نے ایڈیشنل لاء سیکریٹری سندھ کو فوری طور پر ڈاکٹر سمعیہ کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ پورا معاملہ وزیرِ داخلہ اور وزیرِ اعلیٰ سندھ کے سامنے رکھیں تاکہ دیکھا جائے کہ صوبے میں یہ کیا ہو رہا ہے۔ مزید برآں، جوڈیشل کمیشن نے ریکارڈ طلب کرنے والے سی آئی اے کے انسپکٹر محمد علی کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔