وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ

images 11 1

اسلام آباد : ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایندھن کے بحران پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایک اہم اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایندھن کی بچت کے لیے مختلف ہنگامی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، وفاقی حکومت نے بڑھتے ہوئے پٹرولیم اخراجات اور ملکی درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے ملک بھر میں "پیٹرولیم اسمارٹ لاک ڈاؤن” نافذ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت ملک کے تمام سرکاری اور نجی دفاتر میں ہفتے میں صرف چار دن کام کرنے کا فارمولا تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت ملازمین کو جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز تین ہفتہ وار چھٹیاں دی جائیں گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد گاڑیوں کی نقل و حمل اور ایندھن کی کھپت کو کم سے کم سطح پر لانا ہے تاکہ پٹرول کی بچت کی جا سکے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں سرکاری ملازمین کے روٹیشن (باری باری) کے تحت کام کرنے کا فارمولا بھی زیرِ غور لایا گیا ہے تاکہ دفاتر میں حاضری کم رکھ کر بجلی اور ایندھن دونوں کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کو ان تجاویز پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے اور ایک حتمی پالیسی فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، اگر اسمارٹ لاک ڈاؤن اور تین روزہ تعطیلات کی تجویز پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے گی بلکہ ملکی خزانے پر پٹرولیم درآمدات کا بوجھ بھی نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔ حکومت کی جانب سے اس فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جلد متوقع ہے۔