نئے صوبوں کا قیام: چترال کے عوام بھی نئے صوبے کی حمایت میں پیش پیش
ملک کے دیگر حصوں کی طرح ضلع چترال کے عوام بھی انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی تحریک اور حمایت میں صفِ اول میں آ گئے ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک میں پائیدار ترقی، متوازن علاقائی خوشحالی اور نچلی سطح تک مؤثر حکمرانی کی فراہمی کے لیے نئے صوبوں کا قیام وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔
انتظامی اصلاحات اور پسماندگی کے خاتمے کے پیشِ نظر، چترال کے شہریوں اور سماجی حلقوں نے مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع سوات، دیر اور چترال پر مشتمل الگ صوبے کی تجویز کی بھرپور تائید کر دی ہے۔ عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ صوبائی مرکز (پشاور) سے دوری کے باعث ان پہاڑی اور دور آفتادہ اضلاع کے مسائل بروقت حل نہیں ہو پاتے۔ شہریوں کے مطابق، انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے کی تشکیل سے نہ صرف مقامی وسائل پر مقامی لوگوں کا حق تسلیم ہوگا، بلکہ دور دراز کے علاقوں میں روزگار اور ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
