پیپلز پارٹی کا سیاسی نعرہ دفن ہو چکا، سہیل آفریدی کے دورے سے سندھ سرکار بوکھلاہٹ کا شکار ہے، حلیم عادل شیخ

8824 091 7792

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کی حکمران جماعت پر کڑی تنقید کی ہے۔ پریس کانفرنس میں راجہ اظہر، جمال صدیقی، ارسلان خالد، محمد علی بلوچ، راؤ اعظم، غلام رسول، وحید رند، ایڈووکیٹ خالد محمود، عاقل اعوان، فرخ جمیل خان، رانا وسیم، معراج شاہ، خان زمان، ایڈووکیٹ خالد شر اور ملک عارف سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ پچھلے 18 سال سے پیپلز پارٹی جھوٹے نعروں کے سہارے اقتدار میں ہے، لیکن اب ان کا روایتی سیاسی نعرہ دفن ہو چکا ہے اور آصف علی زرداری کی سیاست نے اسے خود ختم کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے پانچ روزہ دورۂ سندھ کے دوران یہ واضح ہو گیا ہے کہ عوام پیپلز پارٹی سے بیزار ہو چکے ہیں اور صوبے سے ان کی سیاسی تدفین ہو چکی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے سندھ حکومت پر اوچھے ہتھکنڈوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب سہیل آفریدی سندھ آئے تو بلاول بھٹو نے پہلے ٹویٹ کر کے خیرمقدم کیا لیکن بعد میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ لاڑکانہ اور نوابشاہ میں پی ٹی آئی کے عوامی استقبال کی فوٹیجز دیکھ کر سندھ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی۔ عمرکوٹ اور میرپورخاص کے راستوں میں خندقیں کھودی گئیں، ٹنڈو الہیار کے پاس ٹرک کھڑے کر کے سڑکیں بلاک کی گئیں، اور کوٹری پل پر گاڑیوں کے ٹائر نکال کر ٹریفک جام کیا گیا۔ سپر ہائی وے پر پولیس گاڑیوں کے ذریعے احتجاج کا ڈراما رچایا گیا اور سڑکوں پر پتھروں سے بھری گاڑیاں کھڑی کر کے ایک حاضر سروس وزیرِ اعلیٰ کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالا گیا۔

حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ 6 ستمبر کو کراچی کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا، پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، اور راؤ اعظم اور عاقل اعوان پر بدترین تشدد کر کے ٹانگ توڑ دی گئی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جس طرح پنجاب سے مخالفین کا صفایا ہوا، اسی طرح اب سندھ سے بھی پیپلز پارٹی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہونے والا ہے۔