سابق امریکی صدر نے خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے اپنی ممکنہ خارجہ پالیسی کا اشارہ دے دیا

WhatsApp Image 2026 09 11 at 2.25.12 PM

واشنگٹن: سابق امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کے خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے اپنی ممکنہ مستقبل کی خارجہ پالیسی کا واضح اشارہ دے دیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں خطے کے امن و امان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے تہران کے ساتھ نمٹنے کے لیے نئی حکمتِ عملی اور سخت سفارتی اقدامات اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا ناگزیر ہے۔ مبصرین کے مطابق، سابق صدر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو ایران پر اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت کیا جا سکتا ہے اور واشنگٹن خطے میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے مزید جارحانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کرے گا۔ اس بیان کو بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔