بلوچستان میں ریلوے نیٹ ورک کی بحالی: 3 ارب کا سریاب تا کچلاک منصوبہ ریکارڈ 120 دنوں میں مکمل

کوئٹہ: بلوچستان کے عوام کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ترقیاتی وژن کے تحت پاکستان ریلوے اور صوبائی حکومت کے تعاون سے سریاب تا کچلاک ریلوے منصوبہ ریکارڈ 120 دنوں کی قلیل مدت میں مکمل ہو گیا ہے۔ اس اہم پراجیکٹ پر مجموعی طور پر 3 ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔
منصوبے کے تحت 32 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی بحالی اور اپ گریڈیشن کی گئی ہے۔ مستقبل کے حادثات سے بچنے کے لیے ٹریک کے پشتوں کو بھی محفوظ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سریاب اور کچلاک اسٹیشنز کو جدید طرز پر استوار کر کے وہاں نئے ٹرن ٹیبلز نصب کر دیے گئے ہیں۔
انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے شیخ ماندا اور بلیلی ریلوے اسٹیشنز کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، جبکہ لورِ کراز ہالٹ اسٹیشن کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔ جی او آر (G.O.R) ہالٹ اسٹیشن کی ازسرِنو تعمیر کر کے اسے سولرائزیشن، برقی کام، نئے فرنیچر اور بینچز سے آراستہ کیا گیا ہے۔ منصوبے میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو جدید اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔ اس نئے روٹ پر بہت جلد "جناح پیپلز ٹرین” کا آغاز کر دیا جائے گا، جس سے صوبے میں ریلوے کا مضبوط رابطہ میسر آئے گا۔
