پٹھان ہوں، گولی مارنی ہے تو مار دو: شاہ رخ خان کا انڈرورلڈ کو پیغام

shah rukh khan ac5w.1248

بالی ووڈ کے نامور فلمساز اور ہدایت کار سنجے گپتا نے نوے کی دہائی میں بھارتی فلم انڈسٹری پر انڈر ورلڈ کے گہرے اثر و رسوخ اور خوف کے سائے سے متعلق بات کرتے ہوئے سپر اسٹار شاہ رخ خان کے حوالے سے ایک انتہائی حیران کن اور بڑا انکشاف کیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں سنجے گپتا نے اس دور کے تلخ حقائق کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس خوفناک عہد کے عینی شاہد ہیں جب ممبئی میں جرائم پیشہ مافیا اور انڈر ورلڈ کا دبدبہ عروج پر تھا، اور شوبز انڈسٹری کے نامور ستاروں سے لے کر ڈائریکٹرز تک کوئی بھی شخص ان کے خوف سے محفوظ نہیں تھا۔

فلمساز کے مطابق اس دور میں بڑے اداکاروں اور اداکاراؤں پر مرضی کی فلمیں سائن کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جاتا تھا، اور انڈر ورلڈ کے کارندے کھلم کھلا فلموں کے سیٹس پر آ کر بیٹھ جاتے اور شوٹنگ کا معائنہ کرتے تھے۔ اس انتہائی سنگین اور پرخطر ماحول میں بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان ان گنتی کی چند شخصیات میں شامل تھے، جنہوں نے کسی بھی قیمت پر مافیا کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا۔


سنجے گپتا نے انکشاف کیا کہ جب انڈر ورلڈ کی جانب سے شاہ رخ خان کو دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئیں اور ان کی پسند کے شوز یا فلموں میں کام کرنے کے لیے مجبور کیا گیا، تو اداکار نے دوٹوک اور نڈر پوزیشن اپنائی۔ شاہ رخ خان نے مافیا کے غنڈوں کو واضح الفاظ میں جواب دیا کہ وہ ان کے اشارے پر نہ تو کوئی فلم سائن کریں گے اور نہ ہی کسی شو کا حصہ بنیں گے۔ سنجے گپتا کے مطابق کنگ خان نے مبینہ طور پر انڈر ورلڈ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا، ‘میں پٹھان ہوں، اگر گولی مارنی ہے تو مار دو، لیکن میں تم سے ہرگز نہیں ڈرتا۔’ شاہ رخ خان کے اس جرات مندانہ فیصلے نے اس دور میں فلم انڈسٹری کے دیگر لوگوں کو بھی حوصلہ دیا۔