سندھ میں ریبیز کے مریضوں کے علاج میں غفلت پر 4 ڈاکٹرز سمیت 7 اراکین معطل
کراچی: چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیرِ صدارت اینٹی ریبیز پروگرام کا ایک اہم فالو اپ اجلاس منعقد ہوا، جس میں کتے کے کاٹنے (ریبیز) کے شکار مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے میں مبینہ غفلت اور کوتاہی برتنے پر محکمہ صحت کے 7 افسران و ملازمین کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ معطل ہونے والے اہلکاروں میں 4 میڈیکل افسران (بشمول ایک خاتون ڈاکٹر) اور 3 پیرامیڈیکل اسٹاف شامل ہیں۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق، ضلع ٹنڈو محمد خان میں تعینات ڈاکٹر نوید الرحمٰن اور ڈاکٹر غلام اظہر، ٹی ایچ کیو اسپتال ٹنڈو غلام حیدر کی ڈاکٹر پارس، نرس فرزانہ بلوچ اور شازیہ خادم، جبکہ شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد حیدرآباد کے اینٹی ریبیز سینٹر کے ڈاکٹر ارباز انہر انصاری اور ڈسپنسر محمد ارشد کو معطل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فرائض میں لاپرواہی پر لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد کے ایم ایس، ڈی ایچ او ٹنڈو محمد خان، شاہدادپور انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر، ڈی ایچ کیو ٹنڈو الہیار اور تعلقہ اسپتال کوٹری کے ایم ایس سے بھی باقاعدہ تحریری وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ رواں سال کے ابتدائی 8 مہینوں میں صوبے بھر میں کتے کے کاٹنے سے متاثرہ تقریباً 45 ہزار مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔ اس مہم کے دوران سندھ بھر میں اینٹی ریبیز ویکسین کی 1 لاکھ 38 ہزار اور ریبیز امیونوگلوبیولن کی تقریباً 5 ہزار خوراکیں فراہم کی جا چکی ہیں، جس کی بدولت صوبے میں ریبیز کے علاج کی مجموعی استعداد میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں، عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے طے کردہ معیارات کے مطابق سندھ کے تمام 278 اینٹی ریبیز یونٹس کا آڈٹ بھی کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح اور سخت ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی طبی یا انتظامی تاخیر کی وجہ سے کسی شہری کی زندگی خطرے میں نہیں پڑنی چاہیے۔ انہوں نے حکم دیا کہ تمام اسپتالوں میں آنے والے متاثرہ مریضوں کو اینٹی ریبیز ویکسین اور مقررہ طبی ضابطے کے مطابق ریبیز امیونوگلوبیولن فوری فراہم کی جائے، جبکہ اینٹی ریبیز ڈیش بورڈ پر کیسز، علاج کے شیڈول اور دستیاب اسٹاک کا ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی ضلع میں ریبیز کیس کے مینیجمنٹ میں بدانتظامی سامنے آئی تو اسے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی ناکامی تصور کیا جائے گا اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
