ایدھی سینٹر میں 65 لاکھ کی ڈکیتی پر پیش رفت نہ ہونے کا شکوہ: فیصل ایدھی کا وزیراعلیٰ سندھ کو خط
کراچی: معروف سماجی کارکن اور ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے سہراب گوٹھ ایدھی سینٹر میں ہونے والی لاکھوں روپے کی سنگین ڈکیتی کی واردات پر پولیس کی عدم کارروائی کے خلاف وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں انہوں نے تاحال ملزمان کا سراغ نہ لگنے پر شدید شکوہ کیا ہے
فیصل ایدھی نے خط میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ وہ متعلقہ پولیس حکام کو فوری اور سخت ہدایات جاری کریں تاکہ مفرور ڈاکوؤں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کیا جا سکے اور لوٹی گئی رقم برآمد کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمن آباد تھانے میں مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس اب تک ملزمان تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے، جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایدھی فاؤنڈیشن غریبوں، یتیموں اور بے سہاروں کے لیے کام کرتی ہے اور اس قسم کی وارداتوں سے فاؤنڈیشن کے فلاحی کام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ ماہ 7 اگست 2026 کو کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں واقع ایدھی شیلٹر ہوم میں پیش آیا تھا۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے ملازمین عملے کی ماہانہ تنخواہیں اور یتیم بچوں کے وظائف تقسیم کرنے کے لیے ایک نجی بینک سے 65 لاکھ روپے سے زائد کی نقدی نکلوا کر سینٹر پہنچے تھے۔
رقم پہنچنے کے چند ہی منٹوں بعد دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 مسلح ڈاکو (جنہوں نے ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھے تھے) مبینہ طور پر پیچھا کرتے ہوئے ایدھی سینٹر کے اندر داخل ہو گئے۔ ملزمان نے وہاں موجود عملے اور رضا کاروں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا، ان پر تشدد کیا اور کچن و دفتری پورشن سے تنخواہوں کے لیے رکھی گئی 65 لاکھ روپے کی پوری رقم اور موبائل فونز چھین کر باآسانی فرار ہو گئے۔ واردات کی واضح سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آنے اور ملازم مظہر عباس کی مدعیت میں سمن آباد تھانے میں ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود ایک ماہ گزرنے پر بھی پولیس ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے بعد فیصل ایدھی کو اعلیٰ حکام سے مداخلت کی اپیل کرنی پڑی
