میر رضا کیس میں بڑا دھماکا: جوڈیشل کمیشن کا وزیرِ داخلہ سندھ ضیا لنجار کو نوٹس جاری کرنے کا حکم
کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے صوبائی حکومت کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
کمیشن کے سامنے مقتول میر رضا کے والد، بہن اور پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ پیش ہوئیں اور انہوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔ سماعت کے دوران مقتول کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے انکشاف کیا کہ میر رضا کے جسم سے حاصل کیے گئے فارنزک نمونے (سیمپلز) انتہائی تاخیر سے لیبارٹری بھجوائے گئے۔ اس پر کمیشن کے استفسار پر ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ ہائی پروفائل کیسز میں عام طور پر تاخیر نہیں کی جاتی، کیونکہ اگر تاخیر کی وجہ سے کوئی کیمیکل ٹریس نہ ہو پائے تو کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
سماعت کے دوران اس وقت تلخی پیدا ہو گئی جب ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مقتول کے وکیل کی جرح پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ سوالات صرف کمیشن کو کرنے چاہئیں۔ اس پر جوڈیشل کمیشن نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ سندھ سے سوال کیا کہ "اگر فیملی کوئی سوال پوچھنا چاہتی ہے تو سندھ حکومت کو کیا اعتراض ہے؟ کیا آپ کچھ چھپا رہے ہیں؟” کمیشن نے ایڈووکیٹ جنرل کی مداخلت پر برہم ہو کر کارروائی معطل کی اور وزیرِ داخلہ سندھ کو فوری نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
