ایران نے امریکی پابندیوں سے بچنے کیلئے چین سے بارٹر تجارت شروع کردی

441819 9477954 updates

ایران نے امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچنے اور عالمی بینکاری نظام سے گریز کرتے ہوئے چین کے ساتھ بڑے پیمانے پر بارٹر تجارت (چیز کے بدلے چیز) کا آغاز کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، اعلیٰ ایرانی ذرائع اور تجارتی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اپنے تیل کی فروخت جاری رکھنے اور اس کے عوض چین سے اربوں ڈالر مالیت کی اشیاء بشمول فوجی ساز و سامان خریدنے کے لیے اس خفیہ نظام کا استعمال کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اس طریقہ کار کے تحت ایرانی تیل کے بدلے چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء کے لیے کریڈٹ حاصل کیے جاتے ہیں۔ ایران نے اس نظام کے ذریعے چین سے ادویات، گاڑیاں اور مواصلاتی آلات حاصل کیے ہیں، جبکہ ان اشیاء کے مینوفیکچررز براہِ راست ایران کے ساتھ لین دین میں شامل نہیں ہوتے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس نظام کے تحت ایران کو لاکھوں ڈالر مالیت کا فضائی دفاعی ساز و سامان بھی فراہم کیا گیا ہے۔

دوسری جانب، چینی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال سے واقف نہیں، تاہم چین ہمیشہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ دوسری طرف، اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشنز نے اس رپورٹ پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، اور خبر رساں ادارے بھی آزادانہ طور پر ان خفیہ مالیاتی معاملات کی تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔