پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنیوالوں کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ ہوگئی

441813 8516103 updates

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے خزانہ اور ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے کیش لیس اکانومی (نقدی کے بغیر معیشت) کے ایجنڈے کے تحت پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام استعمال کرنے والوں کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے، جس کے ساتھ ہی حکومت نے جون 2026 تک کے لیے طے کردہ اپنا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔

یہ بات انہوں نے بل گیٹس فاؤنڈیشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران بتائی، جس کی قیادت گلوبل پالیسی اینڈ ایڈووکیسی ڈویژن کی قائم مقام صدر ڈاکٹر کلپنا کوچہر کر رہی تھیں۔ ملاقات میں پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی، معاشی اصلاحات اور کیش لیس اکانومی پر ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر مملکت نے واضح کیا کہ ‘راست کیو آر’ (Raast QR) کوڈ کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے دی جانے والی ساڑھے 3 ارب روپے کی سبسڈی نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور حکومت اس تعداد کو مزید بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔