لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: پنجاب کے میڈیکل کالجز سے افغان طلبہ کو نکالنے پر حکمِ امتناع جاری

441897 9987032 updates

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے تمام سرکاری و نجی میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو بے دخل کرنے سے روکتے ہوئے عبوری حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے درجنوں افغان طلبہ کو بڑی راحت ملی ہے۔

افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالے جانے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خالد اسحاق نے کی۔ سماعت کے دوران پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان افغان طلبہ کے پاس مطلوبہ قانونی اور تعلیمی دستاویزات ہی موجود نہیں ہیں، جس کی بنا پر ان کے خلاف یہ کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

پی ایم ڈی سی کے اس موقف پر جسٹس خالد اسحاق نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "داخلہ دیتے وقت ان طلبہ کو ایجوکیشن ویزا کس بنیاد پر دیا گیا تھا؟ آپ نے ان کی زندگی کے 4 سال ضائع کر دیے اور اب انہیں واپس بھیج رہے ہیں؟” معزز جج نے مزید کہا کہ پی ایم ڈی سی کو گویا کوئی شاہی حکم آیا جس کے فوراً بعد یہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس میں واضح کیا کہ طلبہ کو نکالنے سے پہلے کم از کم ایک بار ان کا موقف تو سننا چاہیے تھا، جب ان پر پیار آیا ہوا تھا تب پوری دنیا میں اس کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا۔ عدالت نے معاملے پر فریقین سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔