سعودی عرب: مدینہ میں 11 کروڑ ٹن سے زائد نایاب معدنیات اور یورینیم کے وسیع ذخائر دریافت
ریاض : سعودی عرب نے مدینہ منورہ کے ریجن میں واقع جبل سید منصوبے کے مقام پر تقریباً 11 کروڑ ٹن خام معدنی ذخائر دریافت کرنے کا تاریخی اعلان کیا ہے، جن میں انتہائی قیمتی نایاب ارضی عناصر (Rare Earth Elements) کے ساتھ ساتھ یورینیم کے وسیع ذخائر بھی شامل ہیں۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ویانا میں منعقدہ جنرل کانفرنس کے 70 ویں سالانہ اجلاس کے دوران سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اس غیر معمولی دریافت کا باقاعدہ اعلان کیا۔ انہوں نے عالمی فورم کو بتایا کہ جبل سید کے مقام پر کیے جانے والے حالیہ جدید ارضیاتی سروے اور کھدائی کے نتیجے میں ان بڑے ذخائر کی تصدیق ہوئی ہے۔
سعودی وزیر توانائی کے مطابق، دریافت ہونے والے خام مال میں نایاب ارضی عناصر، بالخصوص بھاری عناصر (Heavy Rare Earth Elements) کی غیر معمولی مقدار موجود ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی یورینیم کے بھی انتہائی امید افزا آثار ملے ہیں۔ انہوں نے اس کامیابی کو مملکت کے معدنی وسائل کی تلاش اور قومی ترقی کی حکمت عملی میں ایک سنگ میل قرار دیا۔ عالمی ماہرین کے مطابق یہ دریافت جبل سید کو نایاب معدنیات کے حوالے سے دنیا کے اہم ترین ترقیاتی مراکز کی فہرست میں شامل کرتی ہے۔
واضح رہے کہ ریئر ارتھ معدنیات جدید دور کی جدید ترین ٹیکنالوجی، سمارٹ فونز، جدید الیکٹرانکس، برقی گاڑیوں (EVs) کی بیٹریاں، اور قابلِ تجدید توانائی (گرین انرجی) سمیت دنیا کی کئی اہم ترین صنعتوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔
یہ بڑی پیش رفت سعودی عرب کے انقلابی معاشی منصوبے ‘ویژن 2030’ کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد ملکی معیشت کا تیل پر روایتی انحصار کم کر کے آمدنی کے دیگر ذرائع اور معدنیاتی شعبے کو فروغ دینا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس دریافت سے سعودی عرب عالمی سطح پر جدید ٹیکنالوجی اور صاف توانائی کی عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں ایک انتہائی اہم اور مرکزی ملک بن کر ابھرے گا۔
