ہاکی ایشین چیمپئنز ٹرافی: پاکستان ٹیم کی بھارت آمد میں کوئی مسئلہ نہیں، وزیراعلیٰ بھگونت مان کا اعلان

442155 6331258 updates

لاہور : بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے اعلان کیا ہے کہ بھارت میں شیڈول ہاکی ایشین چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی قومی ٹیم کی شرکت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ موہالی میں ٹورنامنٹ کے باقاعدہ لوگو اور شیڈول کی رونمائی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی کہ کثیر ملکی کھیلوں کے مقابلوں کے لیے بھارتی حکومت کی واضح پالیسی موجود ہے، جس کے تحت پاکستان سمیت تمام ٹیموں کو کلیئر قرار دیا گیا ہے اور دوطرفہ سیریز پر پابندی کے باوجود ایسے ٹورنامنٹس میں پاک بھارت مقابلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ بھگونت مان کے مطابق، یہ معرکہ خیز ایونٹ ستائیس اکتوبر سے پانچ نومبر تک بھارتی پنجاب کے شہروں جالندھر اور موہالی میں کھیلا جائے گا، جس میں کثیر ملکی پالیسی کے تحت چھ ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں ۔ ان مایہ ناز ٹیموں میں میزبان بھارت، پاکستان، چین، جاپان، ملائیشیا اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ ٹورنامنٹ کے تمام لیگ میچز جالندھر کے اولمپین سورجیت ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے، جبکہ سیمی فائنلز اور فائنل موہالی میں منعقد ہوں گے ۔ روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا اور ہائی پروفائل میچ یکم نومبر کو پنجاب ڈے کے موقع پر جالندھر میں کھیلا جائے گا ۔

دوسری جانب، ہاکی انڈیا کے سیکریٹری جنرل بھولا ناتھ سنگھ نے بھی اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ سے بہترین رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ میدان میں روایتی حریف ہونے کے باوجود دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور عہدیداروں کے درمیان باہمی احترام کا رشتہ قائم ہے، اور وہ خود بھی پاک بھارت میچ کے بعد سب سے پہلے پاکستانی کھلاڑیوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ بھارتی حکام نے مزید واضع کیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا کسی ٹیم کے ممکنہ بائیکاٹ کے پیشِ نظر عمان اور بنگلہ دیش کو ریزرو ٹیموں کے طور پر رکھا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ذرائع کے مطابق، قومی ٹیم کی بھارت روانگی کا حتمی فیصلہ حکومتِ پاکستان کی باقاعدہ منظوری اور این او سی سے مشروط ہو گا ۔