کراچی میں موسم بدلتے ہی انفلوئنزا کا حملہ: اسپتالوں میں مریضوں کا رش، ماہرین نے الرٹ جاری کر دیا
راچی : کراچی میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی انفلوئنزا کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے، جس نے شہریوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ شہر کے تمام چھوٹے بڑے نجی و سرکاری اسپتالوں میں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں انفلوئنزا کے متاثرہ مریض علاج کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، تیز بخار، شدید سردرد، سردی لگنا یا کپکپاہٹ، نزلہ، زکام، خشک کھانسی، انتہائی کمزوری اور جسم و پٹھوں میں شدید درد اس وائرل بیماری کی بنیادی علامات ہیں۔
نامور ماہرِ امراضِ سینہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید خان نے اس وبائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انفلوئنزا ایک متعدی بیماری ہے جو ہر عمر کے افراد کو یکساں متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر خبردار کیا کہ وہ افراد جو پہلے سے کسی دائمی بیماری، جیسے دل، گردے، پھیپھڑوں کے امراض یا شوگر میں مبتلا ہیں، انہیں عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ سخت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ان میں یہ وائرس پچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرینِ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں میں انفلوئنزا کی شدت بڑھنے کی صورت میں بخار اور کھانسی کے ساتھ ساتھ الٹی، متلی اور اسہال (ڈائریا) کی علامات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس سے بچوں میں پانی کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
قومی ادارہ صحت (NIH) نے بھی ملک بھر میں موسمی انفلوئنزا سے بچاؤ اور اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک باقاعدہ ایڈوائزری جاری کر دی ہے، جس میں شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پبلک مقامات پر ماسک کا استعمال کریں، ہاتھوں کو بار بار دھوئیں اور علامات ظاہر ہونے پر خود تشخیصی دوائیں (Self-Medication) لینے کی بجائے فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کریں۔ ڈاکٹرز نے کمزور قوتِ مدافعت والے افراد، بوڑھوں اور بچوں کو سالانہ انفلوئنزا ویکسین لگوانے کی بھی تاکید کی ہے تاکہ اس کے شدید حملوں سے محفوظ رہا جا سکے۔
