حیدرآباد: شادی کا جھانسہ دے کر قید کی جانے والی انڈونیشین خاتون گھر پر چھاپے کے دوران بازیاب
حیدرآباد: حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں پولیس نے عدالت کے حکم پر کارروائی کرتے ہوئے ایک انڈونیشین خاتون اندا مرلین کو حبسِ بے جا سے بازیاب کرا لیا ہے۔ متاثرہ خاتون کو مبینہ طور پر شادی کا جھانسہ دے کر پاکستان بلایا گیا تھا، جہاں اس کے شوہر نے اسے گل لطیف سوسائٹی کے ایک مکان میں قید کر رکھا تھا اور اس کا پاسپورٹ سمیت تمام سفری دستاویزات بھی قبضے میں لے لی تھیں۔ خاتون نے اس ظلم کے خلاف محکمہ ترقی نسواں (ویمن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ) کے شکایتی سیل کو خفیہ پیغام بھیج کر مدد طلب کی تھی۔
خاتون کی فریاد پر محکمہ ترقی نسواں کی انچارج نسرین پلیجو نے فوری ایکشن لیتے ہوئے نسیم نگر تھانے سے رابطہ کیا، تاہم مقامی پولیس نے ابتدائی طور پر کارروائی کرنے سے معذرت کر لی۔ پولیس کے عدم تعاون پر نسرین پلیجو نے انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدالت عالیہ کے سخت احکامات کے بعد متحرک ہونے والی پولیس نے قاسم آباد کے مکان پر ہنگامی چھاپہ مار کر انڈونیشین خاتون کو بحفاظت نکال لیا، جس کے بعد وومن پولیس نے اسے قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کر دیا۔
محکمہ ترقی نسواں کی انچارج نسرین پلیجو نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنا یا انہیں قید میں رکھنا ایک سنگین جرم ہے اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا محکمہ خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے ہمیشہ الرٹ رہتا ہے، تاہم انہوں نے مستقبل میں ایسے حساس معاملات سے نمٹنے کے لیے پولیس افسران پر زور دیا کہ وہ محکمہ ترقی نسواں کے ساتھ اپنا تعاون مزید بہتر اور تیز بنائیں۔
