لاہور: وزیراعلیٰ کے پی کی مرحوم کارکن کے گھر آمد، تعزیتی ملاقات میں سکیورٹی کا فیملی ممبر پر مبینہ تشدد

271530396e4de36

لاہور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرحوم کارکن اشتیاق احمد کے اہلخانہ سے تعزیت کے دوران اس وقت شدید بدمزگی پیدا ہو گئی جب وزیراعلیٰ کی سکیورٹی نے شکوہ کرنے پر متوفی کے فیملی ممبر پر مبینہ طور پر تشدد کر ڈالا۔ اس واقعے کے دوران جائے وقوعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ [1]

تفصیلات کے مطابق، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ لاہور کے علاقے مصری شاہ میں پارٹی کے مرحوم کارکن اشتیاق احمد کے گھر تعزیت کے لیے پہنچے تھے۔ ملاقات کے دوران متوفی کے اہلخانہ نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ اشتیاق احمد 17 روز تک اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد جان کی بازی ہار گیا، لیکن اس دوران پارٹی کی قیادت میں سے کسی نے ان کی خبر تک نہ لی۔ اہلخانہ کے اس شکوے کے دوران سکیورٹی گارڈز نے اشتیاق احمد کے ایک فیملی ممبر کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ [1]

واقعے کے وقت ڈیوٹی پر تعینات پولیس کے ٹی ایس آئی حازق بن ارشد نے اپنے ویڈیو بیان میں تصدیق کی کہ وہ مصری شاہ میں وی وی آئی پی سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب متوفی کی فیملی نے سکیورٹی اور رہنماؤں کو گھر کے اندر سیاسی گفتگو سے منع کیا، تو وزیراعلیٰ کی سکیورٹی ٹیم نے بدمزگی شروع کر دی۔ [1]

دوسری جانب، صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے حامی یوٹیوبرز کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیوبرز نے اشتیاق احمد کی موت کے واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی، جبکہ مرحوم کے بیٹے کا بیان پہلے ہی آن ریکارڈ موجود ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا۔ عظمیٰ بخاری نے مزید الزام عائد کیا کہ لاشوں پر سیاست کرنا بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کا پرانا وطیرہ بن چکا ہے