بنگلہ دیش: حسینہ واجد کی پارٹی عوامی لیگ کے 7 سینئر رہنماؤں کو سزائے موت کا حکم
بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کے سات سینئر رہنماؤں کو سنہ دو ہزار چوبیس کی طلبہ تحریک کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں سزائے موت سنا دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پندرہ ستمبر دو ہزار چھبیس کو عدالت نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے ملوث عناصر کو کڑی سزا کا حکم دیا۔ چونکہ نامزد تمام مفرور رہنما عدالت میں موجود نہیں تھے، اس لیے ٹربیونل کی جانب سے یہ تاریخی فیصلہ مجرمان کی عدم موجودگی میں سنایا گیا.
پراسیکیوشن کے مطابق سزائے موت پانے والے رہنماؤں میں عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری عبید القادر، سابق وزیر اطلاعات محمد علی عرفات، جوائنٹ جنرل سیکرٹری اے ایف ایم بہاء الدین نسیم، یوتھ ونگ کے چیئرمین شیخ فضل شمس پراش، جنرل سیکرٹری معین الدین حسین خان نکھل، اسٹوڈنٹ ونگ کے صدر صدام حسین اور جنرل سیکرٹری شیخ ولی عاصف عنان شامل ہیں ۔ ان رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے طلبہ تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کے وحشیانہ استعمال اور فائرنگ کے احکامات جاری کیے تھے ۔ عدالت نے ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے جبکہ عوامی لیگ نے اس فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔
