جن کے پاس دوا کے پیسے نہیں، ان کے ٹیکس پر عدالتیں چلتی ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
پشاور ہائیکورٹ کے عدالتی سال 2026-27ء کی افتتاحی تقریب کورٹ روم نمبر ایک میں منعقد ہوئی، جس میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے اپنے خطاب میں غریب عوام کے حقوق اور عدالتی اخراجات پر اہم ترین گفتگو کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صوبے میں عدالتوں کا روزانہ کا خرچہ 12 کروڑ روپے ہے، اور ایک دن کے عدالتی بائیکاٹ سے عوام کا یہ بھاری سرمایہ ضائع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جن غریب شہریوں کے پاس علاج اور دوائی کے پیسے نہیں ہوتے، وہ بھی ٹیکس دیتے ہیں اور انہی کے پیسوں سے یہ نظام چلتا ہے، اس لیے غریب عوام کو فوری انصاف فراہم کرنا عدلیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ عدالتی سال میں ہزاروں التوا کا شکار مقدمات سمیت 38 ہزار کیسز نمٹائے گئے، عدالتوں کا اے ڈی پی بجٹ 2 ارب سے بڑھا کر 6 ارب روپے کیا گیا، جبکہ مردان میں گواہوں کی پیشی کی شرح 96 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ عدالتی نظام کو جدید ڈیجیٹل سسٹم اور ریکارڈ مینجمنٹ پر منتقل کیا گیا ہے اور ہیومین رائٹس سیل کو ایک ہزار 79 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کی مالی مشکلات کا رونا رویا۔ ان کا کہنا تھا کہ 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد سے کوئی نیا ایوارڈ نہیں آیا، جس کی وجہ سے صوبے کے پاس مالی وسائل انتہائی محدود ہیں۔ انہوں نے پشاور ہائیکورٹ سے باقاعدہ درخواست کی کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے جائز حصے کی فراہمی سے متعلق زیرِ التوا درخواست کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، تاکہ خیبرپختونخوا کو اپنا حق ملنے سے متعدد معاشی مسائل حل ہو سکیں۔ انہوں نے وکلاء برادری کو یقین دہانی کرائی کہ کار پارکنگ کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا اور رواں سال صوبے میں پہلی لا یونیورسٹی (Law University) کا قیام بھی ان شاء اللہ عمل میں لایا جائے گا۔ اس اہم تقریب میں پشاور ہائیکورٹ کے دیگر ججز، ہائیکورٹ بار کے عہدیداران، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور کے پی بار کونسل کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
