اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بڑی خوشخبری: فون ہینگ ہونے کا مسئلہ ختم ہوگا

rTJyzwvCRgrgmi3UPw5Z6Q 1200 80

دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن اور ٹیکنالوجی جائنٹ گوگل نے اسمارٹ فونز میں ریم (RAM) کی بڑھتی ہوئی کھپت اور بھاری ایپس کی وجہ سے فون کی رفتار سست ہونے کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک انقلابی اقدام اٹھایا ہے۔ گوگل نے گوگل پلے اسٹور پر موجود تمام ایپس اور گیمز کے لیے کارکردگی کے نئے اور سخت معیار متعارف کرانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اینڈرائیڈ ڈویلپرز بلاگ پر جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق، گوگل کا بنیادی مقصد موبائل ایپلی کیشنز کی جانب سے میموری کے بے جا استعمال کو روکنا، ڈیٹا ٹرانسفر کے عمل کو تیز اور محفوظ بنانا، اور اسمارٹ فونز کی مجموعی کارکردگی کو تیز تر کرنا ہے۔ ان نئے قواعد و ضوابط کے تحت اب دنیا بھر کے ڈویلپرز پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی ایپس کے کوڈ کو اس طرح ڈیزائن کریں کہ وہ فون کی ریم پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالیں۔

اسمارٹ فونز کی لائف بڑھانے اور صارف کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے اب گوگل پلے پر اینڈرائیڈ ایپس اور گیمز کے لیے مخصوص ‘پرفارمنس تھریش ہولڈز’ (کارکردگی کی حد) مقرر کی جا رہی ہیں۔ ایسی تمام ایپلی کیشنز جو ضرورت سے زیادہ میموری پیٹ کر فون کو ہینگ یا سست کر دیتی ہیں، انہیں اب پلے اسٹور پر برقرار رہنے کے لیے نئے مقررہ معیار کے مطابق اپنی کارکردگی کو لازمی بہتر بنانا ہوگا۔ گوگل کے اس نئے تکنیکی فریم ورک میں ڈائنامک میموری منیجمنٹ، انانیمس آر ایس ایس، سویپ، بِٹ میپ ڈیٹا یوٹیلائزیشن اور ڈیکس کوڈ آپٹیمائزیشن جیسے جدید ترین شعبوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ موبائل فون کی میموری کا استعمال انتہائی سمارٹ اور متوازن طریقے سے ممکن ہو سکے۔