حنا جاوید قتل کیس میں قومی اسمبلی کمیٹی کے سامنے لرزہ خیز انکشافات

970966 16488456

اسلام آباد: راولپنڈی میں مبینہ طور پر قتل ہونے والی حنا جاوید کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس حکام نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ کے دوران اہم انکشافات کیے ہیں۔

اجلاس کے دوران سی سی پی او نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ راولپنڈی میں گھر کے واش روم سے مردہ حالت میں ملنے والی حنا جاوید کے قتل کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے اور نہ ہی ابتدائی طور پر کسی کو اس بارے میں کچھ معلوم تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حنا جاوید کی لاش کو دیکھ کر ہی یہ صاف ظاہر تھا کہ یہ خودکشی کا معاملہ نہیں بلکہ قتل ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور ملازم ذیشان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مقتولہ کے سسر سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔

بریفنگ کے دوران قائمہ کمیٹی کی رکن شاہدہ رحمان نے سنگین انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مقتولہ حنا جاوید کے اہل خانہ نے انہیں بتایا کہ اتنا بڑا واقعہ ہونے کے باوجود ملزمان گھر میں بیٹھ کر اطمینان سے ناشتہ کر رہے تھے۔ انہوں نے پولیس حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیملی کا الزام ہے کہ ملزمان کو تحفظ دیا جا رہا ہے اور پولیس کی باتوں سے ان الزامات کو مزید تقویت مل رہی ہے۔

کمیٹی کی ایک اور رکن زہرہ ودود فاطمی نے واقعے کی بربریت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خاتون پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ ان کے جسم میں سوراخ ہو چکے تھے۔ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ اجلاس میں مقتولہ حنا جاوید کی فیملی کو بذاتِ خود بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا ہے۔