ملزم کو 10 بار اور جیل میں ڈالنا چاہیے: سپریم کورٹ نے دودھ میں ملاوٹ کے ملزم کی ضمانت مسترد کر دی
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے دودھ میں ملاوٹ کرنے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے سنگین مقدمے میں ملوث ملزم غلام نبی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ سماعت کے دوران معزز عدالت کی جانب سے سخت ریمارکس بھی سامنے آئے۔
کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم پر اس وقت حملہ کیا جب وہ کارروائی کے لیے پہنچے تھے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ چھاپے کے دوران ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ اور پستول بھی برآمد ہوا تھا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے رکھا گیا تھا۔
سماعت کے دوران معزز جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے فوڈ اتھارٹی کے اختیارات کے حوالے سے چند اہم قانونی سوالات بھی اٹھائے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا فوڈ اتھارٹی کی ٹیم بغیر وارنٹ کے کسی کی نجی حدود یا چاردیواری میں داخل ہونے کا قانونی اختیار رکھتی ہے؟ اور کیا قانون انہیں اس طرح کی کارروائیوں کی کھلی اجازت دیتا ہے؟ تاہم، جرم کی سنگینی اور کارِ سرکار میں مداخلت کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ملزم کی ضمانت کی اپیل خارج کر دی۔
